یاس

سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی، کیا قیامت ہے
کہ دامانِ خیالِ یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے ! ! ً!
– میرزا غالبؔ

تبصرہ کیجیے