ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے

اُردُو نِگار
ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے
نیت تو باندھ سکتے ہیں پیچھے امام کے

قدموں میں دیں جگہ ہمیں اہلِ کرم کہیں
ہم راندگاں ہیں سجدہ‌گہِ خاص و عام کے

آنکھوں کی بات چھڑ گئی باتوں کے درمیان
مے‌خانے والے رہ گئے پیمانے تھام کے

یہ مسئلے نہیں علمائے کرام کے

کیا خوب وحی پیرِ خرابات کو ہوئی
جھگڑے ہیں سب حرام حلال و حرام کے

دو چار اشک حال پہ میرے بہائیے
شبنم گرے لبوں پہ کسی تشنہ‌کام کے

آتا نہ ہو برات ستاروں کی لے کے چاند
رخسار سرخ کیوں ہوئے جاتے ہیں شام کے

انسان ہیں فرشتہ و ابلیس ہم نہیں

اہلِ زمانہ ان سے نہ باندھیں توقعات
عشاق آدمی ہیں حسینوں کے کام کے

شہرِ بتاں میں ہیں جو درِ مے‌کدہ پہ دفن
پہنچے ہوئے بزرگ تھے راحیلؔ نام کے

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں