سات پردوں سے تری جلوہ‌نمائی نہ گئی

اُردُو نِگار
سات پردوں سے تری جلوہ‌نمائی نہ گئی
دیکھ لی ہم نے وہ صورت جو دکھائی نہ گئی

داستاں ہجر کی کچھ یوں بھی ہوئی طولانی
سنی ان سے نہ گئی ہم سے سنائی نہ گئی

کیا ہوا دل کے سمندر کا تلاطم جانے
ایک مدت سے تری یاد نہ آئی نہ گئی

ذکر اچانک ہی چھڑا اور قیامت کا چھڑا
مسکرایا نہ گیا بات بنائی نہ گئی

درد مندی نے کیے فاصلے آفاق کے طے
آہ پہنچی ہے جہاں آبلہ پائی نہ گئی

فرقتوں کی یہی دیوار بلا ہے یا رب
کل اٹھائے نہ اٹھی آج گرائی نہ گئی

دل وہ بھنورا ہے کہ نچلا نہیں بیٹھا دم بھر
دکھ وہ سرسوں کہ ہتھیلی پہ جمائی نہ گئی

دل سلگتا ہی رہا آنکھ برستی ہی رہی
ایک چنگاری ہی ساون سے بجھائی نہ گئی

عشق میں حسن ہے یا حسن میں ہے عشق نہاں
وہ نظر مجھ سے پلٹ کر سوئے آئینہ گئی

دل کے آنے ہی میں چیں بول گئے راحیلؔ آپ
اتنی تکلیف بھی حضرت سے اٹھائی نہ گئی

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں