صحرا نورد ہوں گے گوشہ گزیں رہیں گے

اُردُو نِگار
صحرا نورد ہوں گے گوشہ گزیں رہیں گے
جیتے رہے تو آخر ہم بھی کہیں رہیں گے

دشتِ مکاں میں جتنے بھی دن مکیں رہیں گے
سانپوں کا ساتھ ہے سو بے آستیں رہیں گے

 گردش کے مارے کب تک اندوہ گیں رہیں گے
وہ دن نہیں رہے تو یہ بھی نہیں رہیں گے

محفل نہیں رہے گی محفل نشیں رہیں گے
ساقی یہ سب ہے فانی باقی ہمیں رہیں گے

نظروں کی بجلیاں جو دل پر گرا رہے ہیں
خرمن جلا کے شاید خوش خوشہ چیں رہیں گے

ہنس ہنس کے کہہ رہا ہے منصور سے مقدر
عرشِ بریں کے محرم زیرِ زمیں رہیں گے

سانسوں ہی پر نہیں ہے موقوف زندگانی
راحیلؔ جب تک آہیں کھنچتی رہیں رہیں گے

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. راحیل بھائی اگر صحرا کا نام پتہ بھی بتادیں تو ہمیں ڈھونڈنے میں آسانی رہے گی ۔ آپ کیوں اور کہاں گوشہ گزیں ہوگئے؟ ایمیل پر بھی کوئی رابطہ نہیں ۔
    غزل پر داد ان سوالوں کے جواب کے بعد ملے گی :-)

    ظہیر

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. مفصل جواب کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں۔ ان‌شاء‌اللہ!
      😊😊😊

      حذف کریں