اپنے غم دیکھتے ہیں اپنے بھرم دیکھتے ہیں

اُردُو نِگار
اپنے غم دیکھتے ہیں اپنے بھرم دیکھتے ہیں
ہائے کس شکل سے آئینے کو ہم دیکھتے ہیں

دل نہیں دیکھتے دل والے کا دم دیکھتے ہیں
دیکھنے والے زیادہ ہوں تو کم دیکھتے ہیں

تیری تصویر پہ ٹکتی ہی بھلا کب ہے نظر
ایک ٹک ہم تو مصور کا قلم دیکھتے ہیں

تیرے کوچے کے مسافر نہیں رکتے گرچہ
راہ میں دیر و کلیسا و حرم دیکھتے ہیں

فقرا اپنے تَضَرُّع پہ نہ فرمائیں ناز
یہ تماشا شب و روز اہلِ کرم دیکھتے ہیں

سنتے آئے ہیں کہ ہر شب کی سحر ہے راحیلؔ
کیا دکھاتا ہے مُرورِ شبِ غم دیکھتے ہیں

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :