جذبے شکست پر بھی وہی ہیں سپاہ کے

اُردُو نِگار
جذبے شکست پر بھی وہی ہیں سپاہ کے
ہیں شاہ سے بھی آگے وفادار شاہ کے

نیت ثواب کی ہے ارادے گناہ کے
مسجد کو جا رہے ہیں طلب‌گار جاہ کے

شبنم شعاعِ مہر کی تنہا نہیں شکار
مارے ہوئے ہیں ہم بھی کسی کی نگاہ کے

انسان تھے بشر تھے میاں آدمی تھے تم
کیا کر دیا ہے ہم نے تمھیں چاہ چاہ کے

پورے تو بندگی کے تقاضے کہاں ہوئے
پتھر ہی گھِس چلے ہیں مری سجدہ گاہ کے

کیا داد دے سکیں گے تمھارے کلام کی
خود رفتگاں نہ آہ کے قائل نہ واہ کے

کلیاں تمھارے ذوق کو کافی نہ ہو سکیں
راحیلؔ چنتے آئے ہو پتھر بھی راہ کے

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. راحیل بھائی !

    بہت خوبصورت غزل ہے۔

    بہت سی داد حاضرِ خدمت ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. عنایت، احمد بھائی۔ اللہ بہت خوش رکھے!

      حذف کریں