ہوں مگر بے‌نشان ہوں میں بھی

اُردُو نِگار
ہوں مگر بے‌نشان ہوں میں بھی
اے زمین آسمان ہوں میں بھی

اپنے اندر جہان ہوں میں بھی
ارے سن داستان ہوں میں بھی

کس قدر بے‌زبان ہوں میں بھی
کیا ترا رازدان ہوں میں بھی

لغزشوں کا ہیں آپ بھی سامان
بندہ‌پرور جوان ہوں میں بھی

ہار جاتا ہوں مانتا نہیں ہار
سنگ‌دل سخت‌جان ہوں میں بھی

تیرے بن تیرے ساتھ گزری ہے
خوش نہیں خوش گمان ہوں میں بھی

تا بکے ماہ تا بکے انجم
صبحِ نو کی اذان ہوں میں بھی

سانس فانی ہے آہ لافانی
بانسری کی سی تان ہوں میں بھی

کہہ گیا اور چھپا گیا راحیلؔ
ہائے کیا خوش‌بیان ہوں میں بھی

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں