رہ نشینوں کو سواروں پہ ہنسی آنے لگی

اُردُو نِگار
رہ نشینوں کو سواروں پہ ہنسی آنے لگی
غم کے ماروں کو ستاروں پہ ہنسی آنے لگی

چمکے آنسو تو تبسم کا گماں ہونے لگا
آنکھ روئی تو نظاروں پہ ہنسی آنے لگی

اس قدر لوگ ہنسے چار طرف سے کہ معاً
ایک پاگل کو ہزاروں پہ ہنسی آنے لگی

غمِ یاراں غمِ دنیا غمِ عقبیٰ غمِ ذات
چارہ گر آج تو چاروں پہ ہنسی آنے لگی

ہوئے جاتے ہیں زیادہ ہی کچھ اب رمز شناس
عقل مندوں کو اشاروں پہ ہنسی آنے لگی

باغبانو تمھیں ہم کچھ نہیں کہتے لیکن
اف خزاؤں کو بہاروں پہ ہنسی آنے لگی

قطرہ ہوں پر مجھے راحیلؔ خدا جانے کیوں
قعرِ دریا پہ کناروں پہ ہنسی آنے لگی

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں