عاشق گلہ کرے تو کرے کیوں سماج کا

اُردُو نِگار
عاشق گلہ کرے تو کرے کیوں سماج کا
خود کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا

لت شاعری میں پڑ گئی ہے اقتدار کی
ورنہ ہمیں دماغ کہاں تخت و تاج کا

چارہ گراں امید کا دامن نہ چھوڑیے
بیمار کو تو چاؤ بہت تھا علاج کا

مجھ کو تو آب و ناں ہی بہت ہے جہاں پناہ
پیاسا ہوں خون کا نہ میں بھوکا خراج کا

کچھ ذوق سے نہیں ہے تعلق رواج کا

کہنے کو آج ہجر سہا کل وصال ہے
راحیلؔ اختیار نہ کل کا نہ آج کا

راحیلؔ فاروق

۲۷ اپریل ۲۰۱۷ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں