غم سے نظریں چرائے پھرتا ہوں

اُردُو نِگار
غم سے نظریں چرائے پھرتا ہوں
خود کو سینے لگائے پھرتا ہوں

نہ کریدو کہ مختصر نہیں بات
داستانیں چھپائے پھرتا ہوں

کچھ تو منکر نکیر جانے بھی دیں
بوجھ آخر اٹھائے پھرتا ہوں

میں نے کب بندگی کا وعدہ کیا
میں مکرتا ہوں ہائے پھرتا ہوں

میں کہاں میں رہا ہوں اب لوگو
خود کو خود سا بنائے پھرتا ہوں

دل کہاں رہ گیا ہے سینے میں
آگ سی اک لگائے پھرتا ہوں

وہی نکلی ہے داستاں سب کی
میں جو اپنی بنائے پھرتا ہوں

بھولنے والے وہ نہیں راحیلؔ
انھیں عمداً بھلائے پھرتا ہوں

راحیلؔ فاروق

۱۳ مارچ ۲۰۱۷ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں