کوئی دن ہو گا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم

اُردُو نِگار
کوئی دن ہو گا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم
تیری گلیوں سے گئے بھی تو کہاں جائیں گے ہم

آنسوؤں کا تو تکلف ہی کیا آنکھوں نے
خون کے گھونٹ سے کیا شوق نہ فرمائیں گے ہم

زندگی پہلے ہی جینے کی طرح کب جی ہے
اب ترے نام پہ مرنے کی سزا پائیں گے ہم

کب تک اے عہدِ کرم باندھنے والے کب تک
دل کو سمجھائیں گے بہلائیں گے پھسلائیں گے ہم

آہ سے عرشِ معلیٰ کو نہ لرزا دیں گے
تو سمجھتا ہے قیامت ہی فقط ڈھائیں گے ہم

لاکھ مرتد سہی بے دین نہیں ہیں واعظ
بت نئے ہیں تو خدا کیا نہ نیا لائیں گے ہم

جاودانی کا تصور میں بھی آیا نہ خیال
ہم سمجھتے تھے ترے عشق میں مر جائیں گے ہم

بس اب اے دل کہ قسم کھائی ہے اس ظالم نے
جو تڑپتا ہے اسے اور بھی تڑپائیں گے ہم

دور تجھ سے تو قضا بھی نہیں لے جائے گی
سر بھی آخر تری دیوار سے ٹکرائیں گے ہم

بھولتا ہی نہیں ہم کو وہ ستمگر راحیلؔ
خاک اسے یاد نہ کرنے کی قسم کھائیں گے ہم

راحیلؔ فاروق

۱۹ مارچ ۲۰۱۷ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. بھولے بھٹکے آپ کی سائیٹ پر آنا ہو گیا۔ آپ کا تعارف بڑا 'ہیجان انگیز' ہے اور صرف تعارف پڑھ کر ہی طبعیت خاصی 'سیر' ہو گئی۔ کتنے بھولے تھے ہم! پچھتا رہے ہیں کہ ہم نے بھی آنلائن دنیا میں ایسا 'شور' کیوں نہ مچایا۔ خیر اب اس راستے پر چلنا شروع کر ہی دیا ہے تو آپ کے ہر ہر 'عمل' کو ضرور یاد رکھا جائے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. گمناموں کے منہ سے ایسے دعوے اچھے نہیں لگتے۔ بہرحال، تشریف آوری کا شکریہ!

    جواب دیںحذف کریں