بےبہا نکتے بےصدا باتیں

اُردُو نِگار
بےبہا نکتے بےصدا باتیں
دلربا لوگ دلربا باتیں

ابتدا کس قدر حسین ہوئی
ہم غزل آپ واہ وا باتیں

منتہائے کلام کیا کہیے
سرِ لب ہو گئیں فنا باتیں

بات کرتے ہیں اور جانتے ہیں
نہیں باتوں سے مدعا باتیں

دوستی دشمنی کا فیض ہے ایک
دم بدم ذکر جابجا باتیں

ہائے کیا آدمی کے ہونٹوں سے
تو بھی کرتا ہے اے خدا باتیں

ان کو معلوم کیا نہیں راحیلؔ
ان سے مل کر کریں گے کیا باتیں


راحیلؔ فاروق

۳۰ مارچ ؁۲۰۱۷ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں