بندہ بھی ہے خدا بھی ہے کوئی

اُردُو نِگار
بندہ بھی ہے خدا بھی ہے کوئی
مجھ میں میرے سوا بھی ہے کوئی

غیر سے آشنا بھی ہے کوئی
بےوفا! باوفا بھی ہے کوئی

سوچ سے ماورا بھی ہے کوئی
لادوا کی دوا بھی ہے کوئی

حسن کی انتہا ملے تو کہوں
عشق کی انتہا بھی ہے کوئی

حذر اے دل حذر گمانوں سے
آنے والا رہا بھی ہے کوئی

بےطلب کی جو بندگی کی ہے
خیر اس کی جزا بھی ہے کوئی

ہم نے کاغذ سفید رہنے دیا
عرض بےمدعا بھی ہے کوئی

آپ راحیلؔ صاحب آپ نہیں
آپ میں آپ کا بھی ہے کوئی

راحیلؔ فاروق

۴ مارچ ؁۲۰۱۷ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں