دھماکا

اُردُو نِگار
زندگی کیا ہے؟ تماشا ہے تفنن ہی تو ہے
میری اوقات ہے کیا اور ہے کیا تیری بساط
مجھے اس بات کا دکھ ہے تجھے اس بات کا دکھ
کس قدر مضحکہ انگیز ہیں اس کھیل میں ہم
ہے مجھے خون کے رشتوں کے بدل جانے کا غم
نفرت اس رنگ سے لگتا ہے تجھے بھی ہے بہت
بھوک جو تجھ کو رلاتی ہے مجھے بھی ہے بہت
سالِ نو سے بھی تھی دونوں کو تمنائے نشاط
یہی امید کہ بھر پائے گا پیٹ اب کے برس
پر اب امید کی بلبل بھی نوا سنج نہیں
پھر ہمی دونوں پہ موقوف بھی یہ رنج نہیں
بین کرتے ہوئے روتے ہوئے لمحات کا دکھ
سب کو ہے ہر کہ و مہ ہر کس و ناکس کو ہے
گندے نالوں میں پڑے رینگنے والے کیڑے
عمر بھر گندگئِ زیست میں سڑنے والے
ان سے آغاز کر اور اہلِ دَوَل تک گن جا
جن کی حشمت پہ تجھے اور مجھے رشک آتا ہے
آسمانوں کو زقندوں میں جکڑنے والے
جن کے پیروں تلے اِفلاس کچل جاتا ہے
جن کی جھولی میں مقدر کا دیا ہُن ہی تو ہے
کوئی بھی خوش نہیں کم بخت کوئی بھی تو نہیں
پاس سے دیکھ ذرا خیر سے ہر آنکھ ہے نم
ہے فضا دہر کی وہ رشکِ جہنم کہ یہاں
عیش جُرّے کو میسر ہے نہ کرگس کو ہے
زندگی تلخ ہے اے دوست! نہایت ہی تلخ
ہم جواں سال ہیں آ ہم اسے آسان کریں
جو ترے ذہن میں ترکیب ہے کیا اچھی ہے
خود پہ احسان کریں لوگوں پہ احسان کریں
چل مرے دوست میں تیار ہوں بسم اللہ کر
بلکہ تیار تو سب لوگ ہیں ڈر جاتے ہیں بس
آ مری جان بہت دیر ہوئی پڑھ کلمہ
ہے جہاں سوختنی آگ لگا دے اس کو
جو بھی رنجش ہے دھماکے سے اڑا دے اس کو

راحیلؔ فاروق

۲۴ فروری ۲۰۱۷ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں