میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے

اُردُو نِگار
میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے
آنکھ اٹھا کے دیکھ ذرا، خود تو نے قیامت کیا ڈھائی ہے

ویرانی سی ویرانی ہے، تنہائی سی تنہائی ہے
پہلے ٹوٹ کے رونے والا اب خاموش تماشائی ہے

شوخ ہوا کا مہکتا جھونکا گلیوں سے اٹھلاتا گزرا
چیخیں مار کے رویا پاگل، "ہرجائی ہے! ہرجائی ہے!"

قہر نہیں یہ دَورِ فلک کا، ظلم نہیں کچھ محبوبوں کا
دل خود درد کا دیوانہ ہے، درد بھی دل کا شیدائی ہے

جب جب فیضِ تیرہ شبی سے اہلِ ہنر کے دل لرزے ہیں
اپنی گرمئِ فکر ہزاروں شمعیں روشن کر لائی ہے

شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر
پر ظالم سودائی ہے اور سودائی پھر سودائی ہے!

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. شوخ ہوا کا مہکتا جھونکا گلیوں سے اٹھلاتا گزرا
    چیخیں مار کے رویا پاگل، "ہرجائی ہے! ہرجائی ہے!"
    پھر سے پڑھی اور پھر سے واہ واہ۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بہت بہت شکریہ، آپا۔
      حسنِ نظر کی داد تو آپ کی بھی بنتی ہے۔ ؛)

      حذف کریں