تم اپنے حسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے

اُردُو نِگار
تم اپنے حسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے
کہ لکھنے والے تو مدت سے ہوش کھو بیٹھے

ترس گئی ہیں نگاہیں، زیادہ کیا کہیے
صنم صنم رہے بہتر، خدا نہ ہو بیٹھے

خدا کے فضل سے تعلیم وہ ہوئی ہے عام
خرد تو خیر، جنوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے

برا کیا کہ تلاطم میں ناخدائی کی
کنارہ بھی نہ ملا، ناؤ بھی ڈبو بیٹھے

مریضِ عشق کا جلدی جنازہ نکلے گا
کچھ اور دیر پتا پوچھتے رہو بیٹھے

تمام شہر میں بانٹی ہے شعر کی خیرات
ہم اس کے درد کو دل میں نہیں سمو بیٹھے

تمھاری بزم بہت تنگ اور دشت وسیع
چلے تو آئے گھڑی دو گھڑی ہی گو بیٹھے

بجھی نہ آتش دل ہی کسی طرح راحیلؔ
وگرنہ یار تو آنکھیں بہت بھگو بیٹھے

راحیلؔ فاروق

۴ فروری ۲۰۱۷

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں