ہمہ تن گوش ہوں، ہمہ تن گوش

اُردُو نِگار
ہمہ تن گوش ہوں ہمہ تن گوش
دوست خاموش ہے بہت خاموش

کوئے جانانہ تھا کہ ویرانہ
تھا مجھے ہوش؟ کیوں نہ تھا مجھے ہوش؟

ہاں ظلوم و جہول ہوں یا رب
دوش کس کا ہے؟ بول کس کا ہے دوش؟

کون ہے؟ جی فقیر! ہائے نہیں
کیا خور و نوش؟ کیا فقط خور و نوش؟

سینہ میدانِ جنگ ہے کس کا
دم زرہ پوش ہے نہ غم زرہ پوش

پھر کوئی درد ہے بلا کا درد
شعر میں جوش ہے غضب کا جوش

مند گئی آنکھ مند گئی راحیلؔ
کوئی آغوش ہے کوئی آغوش

راحیلؔ فاروق

۷ فروری ۲۰۱۷ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں