وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی

اُردُو نِگار
وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی
ایسا دھواں ہوا کہ لگا تو بھی تو نہ تھی

تم نے ستم کیا تو پشیمان کیوں ہوئے
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آرزو نہ تھی

وہ زندگی جو تیرے شہیدوں نے کی ہے دوست
آبِ بقا کی بوند تھی دل کا لہو نہ تھی

منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی

راحیلؔ سوزِ عشق سے پہلے جہان میں
آفاق تھے نگاہ نہ تھی جستجو نہ تھی

راحیلؔ فاروق

۱۴ فروری ؁۲۰۱۱ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں