میں دیوانہ ہوں دیوانے کا کیا ہے

اُردُو نِگار
میں دیوانہ ہوں دیوانے کا کیا ہے
زمانہ خود تماشا بن گیا ہے

ہم اپنی داستاں خود کیوں سنائیں
جو ظالم پوچھتا ہے جانتا ہے

دھوئیں کی گود میں بیٹھا زمانہ
گل و بلبل پہ فقرے کس رہا ہے

ہمارا نام ان کے نام کے ساتھ
کسی بدخط نے عمداً لکھ دیا ہے

حقیقت سے جو منہ پھیرے سو کافر
حرم ہے دیر ہے بت ہیں خدا ہے

ترا غصہ تو پھر غصہ ہے ظالم
ترا یہ صبر بھی صبر آزما ہے

ہر اک سے حال مت دریافت کیجے
اسی سے پوچھیے جس کو پتا ہے

خدا کے ذکر میں تسکین ہو گی
بتوں کی بات کا اپنا مزا ہے

حسد ہے منعموں کو منعموں سے
فقیروں کو فقیروں کی دعا ہے

اسی دکھ میں مرا جاتا ہے راحیلؔ
کوئی سمجھے کہ دکھ کس بات کا ہے

راحیلؔ فاروق

۲۸ فروری ؁۲۰۱۷ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں