بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں

اُردُو نِگار
بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں
دل کی باتیں ہیں یہ لوگوں میں سنانے کی نہیں

جبر سے شیخ کرے داخلِ جنت تو کرے
زندگی موت کی باتوں میں تو آنے کی نہیں

کچھ تو کر خستگی اپنی پہ نظر اے دنیا
یہ تری عمر نئے فتنے اٹھانے کی نہیں

چل پڑے تو کبھی دیکھا نہیں مڑ کے ہم نے
جی میں آئی تو سنی ایک زمانے کی نہیں

سختئِ راہ تھکا دے تو تھکا دے ورنہ
جستجو تیرے مسافر کو ٹھکانے کی نہیں

کوئے جاناں سے بہت شکوے سہی پر راحیلؔ
آ گئے ہو تو ضرورت تمھیں جانے کی نہیں

راحیلؔ فاروق

۲۲ فروری ۲۰۱۷ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں