ہے ایک ہی علاج بصیرت کی بھول کا

اُردُو نِگار
ہے ایک ہی علاج بصیرت کی بھول کا
سرمہ لگا حضور کے پیروں کی دھول کا

افسونِ سامری ہے اسے شاعری نہ جان
"دیواں میں شعر گر نہیں نعتِ رسول کا"

باطن پہ ہو نگاہ تو یکساں ہیں سب چمن
لیکن جدا ہے رنگ مدینے کے پھول کا

وارفتگی میں پاسِ ادب کی بھی شرط ہے
وحشی کو ہے معاملہ درپیش اصول کا

راحیلؔ نے بھی پائی ہے توفیق نعت کی
آخر شرف دعا کو ملا ہے قبول کا

راحیلؔ فاروق

۱۴ دسمبر، ؁۲۰۱۶ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں