کیا ہی تَپتا ہے، سُلگتا ہے، دُھواں دیتا ہے

اُردُو نِگار
کیا ہی تَپتا ہے، سُلگتا ہے، دُھواں دیتا ہے
ہجر کی شام تو دل باندھ سماں دیتا ہے

کون کمبخت نہ چاہے گا نکلنا لیکن
اتنی مہلت ہی ترا دام کہاں دیتا ہے

قول تو ایک بھی پورا نہ ہوا اب دیکھوں
کیا دلیل اس کی مرا شعلہ بیاں دیتا ہے

طبعِ نازُک پہ گزرتا ہے گَراں تو گزرے
زیب وحشی کو یہی طرزِ فُغاں دیتا ہے

خاص بندوں کو پکارے گا اُدھر تو رضواں
دعوتِ عام اِدھر شہرِ بُتاں دیتا ہے

ایک مدت سے بدن برْف ہے لیکن اب تک
کروٹیں دل کو کوئی سوزِ نِہاں دیتا ہے

نازنیں پڑھتے ہیں راحیلؔ کی غزلیں کیا خوب
داد ہر شعر کی ہر پیر و جواں دیتا ہے

راحیلؔ فاروق

۱۵ دسمبر ؁۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں