تامل، تذبذب، تردد، تکلف

اُردُو نِگار
تامل، تذبذب، تردد، تکلف
وفا نا شناسوں کی مکاریاں، اف!

اسے جاننے والے پہچانتے ہیں
ستم گر کا ہے نام اس کا تعارف

مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف

محبت تھی دنیا سے، دنیا نے مارا
محبت پر افسوس، محبوب پر تُف!

مِرا حاصلِ عمر مَیں ہوں، الٰہی!
سراپا ندامت، سراپا تاسُف

ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل؟ کہاں کا توقف؟

غزل یہ ہے راحیلؔ شانِ تغزل
اسے کہتے ہیں قافیے کا تصرف

راحیلؔ فاروق

۱۶ نومبر، ۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں