لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے

اُردُو نِگار
لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے
سرکار مگر آپ تو ایسا نہ سمجھتے!

سب حشر اٹھائے ہوئے امید کے ہیں، کاش
بیگانہ سمجھتے تجھے اپنا نہ سمجھتے

اب دیکھ لیا ہے تو مکرتے نہیں ورنہ
ہم لوگ تو اس حسن کو افسانہ سمجھتے

یعنی کہ ستم کو بھی کرم جان کے خوش ہوں
دیوانہ سمجھتے مگر اتنا نہ سمجھتے

حافظؔ کے تصوف نے کیا شیخ کو گمراہ
میخانے کو حضرت ہیں صنم خانہ سمجھتے

سمجھانے کو کوڑا نہ اگر عشق کا ہوتا
راحیلؔ میاں خاک بھی واللہ نہ سمجھتے

راحیلؔ فاروق

۲۱ نومبر، ۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں