غزل: حسن تھا یا کمال تھا، کیا تھا؟

اُردُو نِگار
حسن تھا یا کمال تھا، کیا تھا؟
عشق تھا یا زوال تھا، کیا تھا؟

کیا سنائیں جو حال تھا، کیا تھا؟
کون کافر جمال تھا، کیا تھا؟

کیا ہوا رات دل کی گلیوں میں
چور تھا، کوتوال تھا، کیا تھا؟

کھو دیے پر ملال ہے، کیوں ہے؟
دل تمھارا ہی مال تھا، کیا تھا؟

کوئی منزل نہ تھی اگر غم کی
رستہ کیوں پائمال تھا، کیا تھا؟

جو صدا اس کے در پہ کر آئے
آہ تھی یا سوال تھا، کیا تھا؟

میں سخن ور ہوں یا شکاری ہوں
وہ غزل تھا، غزال تھا، کیا تھا؟​

عمر کس دھن میں کاٹ دی راحیلؔ
تھا بھی کچھ یا خیال تھا، کیا تھا؟

راحیلؔ فاروق

۲۵ اکتوبر ۲۰۱۶ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں