اوزانِ رباعی کے دو قاعدے

اُردُو نِگار
رباعی اہلِ فارس کی ایجاد ہے جس کے لیے انھوں نے نہایت اہتمام سے چار نئے زحافات بھی ابداع کیے۔ جب، ہتم، زلل اور بتر۔ اس کے مستعمل ارکان دس ہیں اور ان کی ترتیب کے لیے "سبب پئے سبب است و وتد پئے وتد است" کا مصرع اصول کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ قاعدہ یگانہؔ چنگیزی نے اردو میں غالباً پہلی مرتبہ اپنی کتاب "چراغِ سخن" میں بیان کیا اور ماہرینِ فن کے ہاں اب اسے قبولِ عام حاصل ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے جناب محمد وارث کا مضمون رباعی کے اوزان پر ایک بحث دیکھا جا سکتا ہے۔
گو کہ بادی النظر میں رباعی کے چوبیس اوزان مستحضر کرنے کے لیے یہ قاعدہ نہایت سہل معلوم ہوتا ہے اور اس سے انکار نہیں کہ اس سے پیشتر ان اوزان کو یاد رکھنا نہایت دشوار تھا مگر واسطہ پڑنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بات اب بھی اتنی سادہ نہیں۔ یگانہؔ کے اصول کے مطابق جو شخص اوزانِ رباعی کو سمجھنا چاہے اسے مندرجہ ذیل تمام باتیں ذہن میں رکھنا پڑتی ہیں:

۱۔ دس مستعمل ارکان یہ ہیں: مفاعیلن، مفاعلن، مفاعیل، فاعلن، مفعولن، مفعول، فعول، فاع، فعل، فع۔
۲۔ ہر مصرع میں چار ارکان ہونے ضروری ہیں۔
۳۔ سبب پر ختم ہونے والے رکن کے بعد سبب سے شروع ہونے والا رکن آنا لازم ہے۔
۴۔ وتد پر ختم ہونے والے رکن کے بعد وتد سے شروع ہونے والا رکن آنا لازم ہے۔
۵۔ وتدِ مقرون اور وتدِ مفروق دونوں وتد ہی گنے جائیں گے۔ یعنی کوئی رکن وتدِ مفروق پر ختم ہو تو بھی اگلا رکن وتدِ مجموع سے شروع ہو گا۔
۶۔ صدر و ابتدا میں مفعول یا مفعولن کے سوا کوئی رکن نہیں آ سکتا۔
۷۔ عروض و ضرب میں فع، فاع، فعل یا فعول کے سوا کوئی رکن نہیں آ سکتا۔
۸۔ فع، فاع، فعل اور فعول حشو ہائے اول و دوم میں نہیں آ سکتے۔
۹۔ مفاعلن حشوِ دوم میں نہیں آ سکتا۔
۱۰۔ فاعلن حشوِ دوم میں نہیں آ سکتا۔

پروفیسر عندلیب شادانی نے "اوزانِ رباعی کے متعلق ایک نئی دریافت" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جسے سید عابد علی عابدؔ نے اپنی کتاب "اصولِ انتقادِ ادبیات" میں نقل کیا ہے۔ اس مضمون میں شادانی صاحب نے مشرقی پاکستان کے ایک شاعر، ماہرِ عروض اور ریاضی دان جناب امیر الاسلام شرقی کے اوزانِ رباعی کے لیے وضع کردہ ایک نئے فارمولے کا ذکر کیا ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ اس فارمولے کو بیان کرنے کے علاوہ اس کا تقابل بھی یگانہؔ کے اصول سے کر سکوں۔
شرقی صاحب کی سب سے بڑی بدعت یا اجتہاد یہ ہے کہ رباعی کے اوزان کو انھوں نے ہزج کی بجائے رجز سے استخراج کیا ہے۔ رجز بحورِ مفردہ میں سے ہے اور اس کا رکنِ اصلی مستفعلن متصل ہے جس کی مصرع میں ہزج مثمن ہی کی طرح چار بار تکرار ہوتی ہے۔ شرقی صاحب نے اس پر مندرجہ ذیل زحافات کے عمل سے رباعی کے لیے اس کے چھ فروع حاصل کیے ہیں:

۱۔ حذذ اور حذف سے فع (احذ محذوف)
۲۔ قطع سے مفعولن (مقطوع)
۳۔ طے سے مفتعلن (مطوی)
۴۔ خبن سے مفاعلن (مخبون)
۵۔ عرج سے مفعولان (اعرج)
۶۔ طے اور اذالہ سے مفتعلان (مطوی مذال)

اب اوزانِ رباعی کے اس فارمولے کے اصول ملاحظہ فرمائیے:

۱۔ چار ارکان یاد رکھنے کے لائق ہیں: فع، مفعولن، مفتعلن اور مفاعلن۔
۲۔ ہر مصرع میں چار ارکان ہونے ضروری ہیں۔
۳۔ فع ہمیشہ اور صرف صدر و ابتدا میں آئے گا۔
۴۔ مفاعلن صرف حشوِ دوم میں آ سکتا ہے۔
۵۔ عروض و ضرب میں مفعولن کی جگہ مفعولان اور مفتعلن کی جگہ مفتعلان بھی آ سکتا ہے۔

اب ہم اس قاعدے کی مثالیں دیکھتے ہیں اور ان کا رباعی کے کلاسیکی اوزان سے موازنہ کرتے ہیں۔ دائیں ہاتھ پر شرقی صاحب والے اوزان جبکہ بائیں ہاتھ پر کلاسیکی اوزان رکھے گئے ہیں:

فع مفعولن مفعولن مفعولن = مفعولن مفعولن مفعولن فع
فع مفتعلن مفتعلن مفتعلن = مفعول مفاعیل مفاعیل فعل
فع مفتعلن مفاعلن مفعولن = مفعول مفاعلن مفاعیلن فع
فع مفعولن مفتعلن مفتعلن = مفعولن مفعول مفاعیل فعل
فع مفتعلن مفاعلن مفتعلان = مفعول مفاعلن مفاعیل فعول
فع مفعولن مفاعلن مفعولان = مفعولن فاعلن مفاعیلن فاع

ان مثالوں سے واضح ہو گیا ہو گا کہ رباعی کے چوبیس کے چوبیس مروجہ اوزان شرقی صاحب کے فارمولے سے بھی نکل سکتے ہیں۔ اور نہ صرف یہ استخراج ممکن ہے بلکہ کلاسیکی اوزانِ رباعی کی بہ نسبت کہیں زیادہ آسان ہے۔
ایک اور روایت شکنی جو شرقی صاحب نے کی ہے وہ زحافات کا استعمال ان کے محل سے ہٹ کر کرنا ہے۔ مثال کے طور پر کلاسیکی عروض میں حذذ اور حذف عروض و ضرب سے مخصوص ہیں جبکہ موصوف نے ان کا عمل صدر و ابتدا میں کیا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ رباعی کے کلاسیکی اوزان میں بھی یہ کوتاہی اسی طرح موجود رہی ہے اور اخرب و اخرم وغیرہ ارکان جن کا مقام دراصل صدر و ا بتدا ہیں، حشو میں بھی روا رکھے گئے ہیں۔
اب ہمارے سامنے صرف ایک سوال رہ جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ رباعی کے اوزان کو روایتی طرز پر ہزج سے نکالنا ہی صحیح ہے یا کسی اور بحر کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال میں لانا جائز ہے۔ اس سوال کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ کیا رباعی کا ہزج سے کوئی ایسا اٹوٹ رشتہ ہے جو رجز سے نہیں ہو سکتا؟
ہماری ذاتی رائے میں جب اوزان ایک سے ہیں، آہنگ وہی ہے، باقی شرائط جو رباعی کو رباعی بنانے میں ممد ہیں ویسی کی ویسی ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ اوزانِ رباعی کا استخراج رجز سے کر لیا جائے۔ بصورتِ دیگر ہم پر یہ ثابت کرنے کا بار آتا ہے کہ ہزج کے نام اور نسبت سے محروم ہو کر رباعی رباعی نہیں رہتی جو کم از کم مجھ ہیچ مدان کے بس سے باہر ہے۔

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں