تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح

اُردُو نِگار
تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح
ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح

ڈھلتے ڈھلتے بھی غضب ڈھائے گیا ہجر کا دن
کسی کافر کی جنوں خیز جوانی کی طرح

ایسی وحشت کا برا ہو کہ ہم اپنے گھر سے
گم ہوئے خود بھی محبت کی نشانی کی طرح

ننگے سچ قابلِ برداشت کہاں ہوتے ہیں؟
واقعہ کہیے تو کہیے گا کہانی کی طرح

پاس رکھیں تو ملال، آگ لگائیں تو ملال
دل بھی ہے کیا کسی تصویر پرانی کی طرح

عشق ہے مدرسۂِ زیست کی اکھڑی ہوئی اینٹ
ہمہ دانی کی طرح، ہیچ مدانی کی طرح

یہ غزل حضرتِ راحیلؔ کی ہے، دھیان رہے
آپ پوشیدہ ہیں لفظوں میں معانی کی طرح

راحیلؔ فاروق

۴ اکتوبر، ۲۰۱۶ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. کمال کی غزل ہے سر ۔۔ بہت بہت زبردست

    ڈھلتے ڈھلتے بھی غضب ڈھائے گیا ہجر کا دن
    کسی کافر کی جنوں خیز جوانی کی طرح

    واہ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. راحیل فاروق17 اکتوبر، 2016 5:47 PM

      آپ کی تشریف آوری اور محبت کا شکرگزار ہوں، بھائی۔
      سلامت باشید۔ :)

      حذف کریں