کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے

اُردُو نِگار
کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے
کبھی ان سنی بھی سنا کیجیے

دعائیں بھی لے لوں گا گر جی گیا
مرا جا رہا ہوں، دوا کیجیے

نئے وعدے کا شکریہ، مہرباں
پرانا بھی کوئی وفا کیجیے

محبت وراثت نہ تھی آپ کی
یہ قرض آپ پر ہے، ادا کیجیے

غزل جانتا ہے زمانہ اسے
تڑپ جائیے تو صدا کیجیے

نگہ ہے کہ فتنہ؟ ادا ہے کہ حشر؟
کرم کو ستم سے جدا کیجیے

کبھی ان کی منت، کبھی دل پہ جبر
کوئی بھی نہ مانے تو کیا کیجیے؟

در ان کا ہے راحیلؔ، انھی کے ہیں آپ
حضور، آپ بیٹھے رہا کیجیے!


راحیلؔ فاروق

۳۰ ستمبر، ۲۰۱۶ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. واہ واہ واہ ۔۔ ہر ایک شعر بے مثال اور زبر دست ۔۔ ڈ ھیروں داد

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. راحیل فاروق17 اکتوبر، 2016 5:45 PM

      عنایت، عامر بھائی۔ ڈھیروں شکریہ!

      حذف کریں