جان واری ہے جہاں، دل بھی تو ہارا ہو گا

اُردُو نِگار
جان واری ہے جہاں، دل بھی تو ہارا ہو گا
اب بھلا خلد میں کیا خاک گزارا ہو گا؟

یہی یاری ہے کہ تو ایک زمانے کا ہے یار؟
ہم بھی دو چار کے ہو جائیں، گوارا ہو گا؟

ہجر کی رات کوئی کام تو ہوتا نہیں اور
سوچتے ہیں کہ کوئی تجھ سے بھی پیارا ہو گا؟

محتسب خاک دھرے گا ہمیں میخانے میں؟
ہم تو ہوں گے ہی، وہاں شہر بھی سارا ہو گا

کون کرتا ہے ترے عشق کی تہمت کا دفاع؟
جس پہ الزام لگے گا، اسے یارا ہو گا؟

سن کے راحیلؔ کے اشعار وہ فرماتے ہیں
نہ سہی کام کا، شاعر تو بچارا ہو گا!

راحیلؔ فاروق

۱۴ ستمبر، ۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں