غم

اُردُو نِگار
رات ویران ہے، بہت ویران
آسماں لاش ہے، جلی ہوئی لاش
جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح
ایک انبوہ ہے ستاروں کا
رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں
خامشی سے گزرتے جاتے ہیں

ہائے یہ رات، ہائے ہائے یہ رات
کب بسر ہو گی؟ کیسے گزرے گی؟
کوئی دیکھے مری نظر سے اسے
کوئی چارہ مجھے بتائے مرا
یا پھر آنکھیں ہی نوچ لے میری
ہے مسیحا کوئی؟ طبیب کوئی؟
کون میرے علاوہ دیکھے گا؟
جو مری آنکھ پر بھی ہے دشوار

غم کی عظمت کو کون پہچانے؟
چھوڑ کر زندگی کا کاروبار
کسے فرصت کہ آنکھ اٹھائے ذرا
آسماں کا جنازہ پڑھ ڈالے؟
اور ستاروں کا راستہ روکے؟
کسے فرصت ہے مجھ سے بات کرے؟
میری آنکھوں میں جھانک کر دم بھر
مجھ سے پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟

بھری دنیا میں کون دیدہ ور؟
کون رکھتا ہے میری جیسی نظر؟
کون پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟
غم کی عظمت کو کون پہچانا؟
کسے فرصت کہ مجھ کو پہچانے؟

راحیلؔ فاروق

۲۶ اگست ۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

5 تبصرے :

  1. واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل میں اترتی نظم۔
    بہت خوبصورت۔بہت ہی پیاری۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بہت ممنون، اچھی آپا۔
      آپ لوگوں ہی نے تو لکھنے کی ہمت دی ہے۔ ورنہ مجھ میں تو یہ تاب بھی نہیں رہی تھی۔
      سدا خوش رہیے۔ مالک آپ کے سوہنے دل کو ہمیشہ مطمئن اور شادمان رکھے۔

      حذف کریں
  2. واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل میں اترتی نظم۔
    بہت خوبصورت۔بہت ہی پیاری۔

    جواب دیںحذف کریں