غزل: عشق مشکل میں ہے، ضبط اس سے بڑی مشکل میں ہے

اُردُو نِگار
عشق مشکل میں ہے، ضبط اس سے بڑی مشکل میں ہے
دل تمنا میں گیا پھر بھی تمنا دل میں ہے

کچھ نہ کچھ تاب و تواں باقی ابھی بسمل میں ہے
پوچھ لیجے، آخر ایسی بات کیا قاتل میں ہے؟

جس کے باعث حسن ہے بدنام ازل سے، غافلو!
وہ خرابی اصل میں عاشق کے آب و گل میں ہے

انتظارِ وصل میں ہے کیا مزا، مت پوچھیے
پوچھیے مت، کیا مزا اس سعیِ لاحاصل میں ہے

خود شناسی کے سفر میں کیا نہیں پائی مراد
یہ وہ منزل ہے کہ جس کی راہ بھی منزل میں ہے

نام ہی کا رہ گیا ہوں یوں بھی اب راحیلؔ میں
"ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے"

راحیلؔ فاروق

۹ اگست ۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. خود شناسی کے سفر میں کیا نہیں پائی مراد
    یہ وہ منزل ہے کہ جس کی راہ بھی منزل میں ہے
    واہ!واہ!واہ!واہ!
    بہت زبردست۔
    ہر شعر لاجواب1

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. شکریہ، اچھی آپی۔
      بہت بہت شکریہ۔ آپ کے تشریف لانے اور وقت دینے سے عزت افزائی ہوئی میری!
      بہت دعائیں۔

      حذف کریں