غزل: میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی

اُردُو نِگار
میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی
چارہ گرانِ عشق کی عقل ٹھکانے آ گئی

رات کی خیمہ گاہ میں شمع جلانے آ گئی
آ گئی مہرباں کی یاد، آگ لگانے آ گئی

بندہ نواز، کیا کروں؟ مجھ کو تو خود نہیں خبر
فرش میں عرش کی کشش کیسے نجانے آ گئی؟

جس کے وجود کا پتا موت کو بھی نہ مل سکا
اس کی گلی میں زندگی شور مچانے آ گئی

خاک ہوا تو دیکھیے، خاک پہ فضل کیا ہوا
کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی

تیرے وصال کی قسم، تیرے جمال کی قسم
ایک بہار عشق پر آ کے نہ جانے آ گئی

راحیلؔ فاروق

۴ اگست ۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

3 تبصرے :

  1. خاک ہوا تو دیکھیے، خاک پہ فضل کیا ہوا
    کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی
    واہ بھئی واہ۔کیا خوب اشعار ہیں۔کاسیکل شعراء کا رنگ ہے۔
    دعاؤں بھری داد۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. خاک ہوا تو دیکھیے، خاک پہ فضل کیا ہوا
    کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی
    واہ بھئی واہ۔کیا خوب اشعار ہیں۔کاسیکل شعراء کا رنگ ہے۔
    دعاؤں بھری داد۔

    جواب دیںحذف کریں