مائے نی میں کنوں آکھاں

اُردُو نِگار
مولائے رومؒ نے اپنی مثنوی میں ایک بڑی معنیٰ خیز حکایت بیان کی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دہقان کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں شام پڑ گئی۔ ویرانہ تھا۔ اس نے اپنے بیل کو باندھا اور خود ایک نسبتاً محفوظ جگہ پر مچان بنا کر سو گیا۔ رات کو کسی وقت اس کی آنکھ کھلی تو اسے خیال آیا کہ علاقہ محفوظ نہیں۔ کہیں کوئی درندہ اس کے جانور کو پھاڑ نہ کھائے۔ وہ اترا اور گھپ اندھیرے میں ٹٹول کر اس جگہ پہنچا جہاں اس نے اپنے بیل کو باندھا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے تئیں بیل کے جسم پر ہاتھ پھیر کر تسلی کی۔ ادھر معاملہ یہ تھا کہ ایک شیر آ کر اس کے بیل کو ہلاک کر چکا تھا اور سیر ہونے کے بعد آرام کر رہا تھا۔ دہقان اس شیر کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور شیر اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ اگر اس گنوار کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ شیر کے بدن کو سہلا رہا ہے تو اس کا پتا پھٹ جائے اور دل خون ہو جائے۔
آگے چل کر مولوی رومیؒ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ بھی یہی فرماتا ہے۔ یعنی انسان صبح و شام اللہ اللہ کرتا رہتا ہے۔ لیکن اگر اسے علم ہو جائے کہ اللہ کیا ہے تو اس کا دل خون ہو جائے اور زہرہ آب ہو جائے۔
یہ تو خیر بہت بڑی مثال ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ انسان عام طور پر بھی جو کلام روزمرہ کے معمولات میں کرتا ہے، اس کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتا۔ بلکہ یوں کہنا شاید مناسب ہو گا کہ انسان اسی چیز کی بابت عام طور پر زیادہ کلام کرتا ہے جس کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتا۔ ورنہ معمولی سے معمولی حقیقت کا وقوف بھی انسان کے نطق کو عاجز کر دینے کے لیے کافی ہے۔
برٹرینڈ رسل کا ایک قول معروف ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ
دنیا کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ احمق اور سودائی اپنے تئیں نہایت پراعتماد اور پرتیقن ہوا کرتے ہیں جبکہ دانا متردد اور متذبذب رہ جاتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ داناؤں کی جھجک اور تردد ان کے بڑھے ہوئے علم اور بصیرت کے باعث ہی ہوتا ہے۔انسان کا علم جب محدود ہوتا ہے تو اس کمی کی تلافی کرنے کے لیے فطری طور پر اس کے اندر یقین اور اعتماد کا عنصر زیادہ ہو جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کم علم لوگوں کا جینا محال ہو جائے۔ لیکن فطرت توازن قائم رکھنے کے لیے ایسے انسانوں کو یقین کی قوت ارزانی کر دیتی ہے۔ لہٰذا جاہل درست قدم اٹھائیں یا غلط، عالم کی نسبت عموماً زیادہ استقلال اور ہمت سے کام لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جوں جوں علم میں ترقی ہوتی ہے توں توں مختلف و متبائن نکتہ ہائے نظر سے تعارف ہونے باعث کسی ایک خیال پر قائم ہونا دشوار ہونے لگتا ہے اور انسان کے دل میں بے یقینی راہ پانے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علما کے ہاں جس درجے کے اعلیٰ و ارفع خیالات نظر آتے ہیں، اس سطح کا کردار ان کے ہاں اکثر پیدا نہیں ہو پاتا۔ منزلیں ان کی روشن نگاہی کی زد میں ہوتی ہیں، مگر تردد، تشکک اور بے یقینی انھیں گویا مفلوج کر کے راہ مار دیتے ہیں۔
ایک چوراہے پر دو شخص جھگڑ رہے تھے۔ کسی راہ گیر نے وجہ پوچھی تو ایک بولا کہ میں کہتا ہوں یہ تختہ نیلا ہے اور یہ شخص کہتا ہے کہ یہ سرخ ہے۔ راہ گیر بولا، "تم دونوں صحیح کہتے ہو۔ جس طرف پہلا شخص کھڑا ہے اس طرف سے یہ نیلا ہے۔ اور جس طرف سے دوسرا اسے دیکھتا ہے اس طرف اس کا رنگ سرخ ہے۔"
یہ حکایت بڑی سادہ سہی، لیکن ہم قیاس کر کے ایک نکتہ سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ دونوں جھگڑنے والوں میں سے کسی ایک کو یہ بات معلوم ہوتی کہ تختہ دونوں طرف سے دو مختلف رنگوں میں رنگا ہوا ہے تو بھی کیا وہ اسی شدت اور جذبے سے لڑ سکتا؟ میرا خیال ہے نہیں۔ امید ہے آپ بھی یہی سمجھتے ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں شخصِ مذکور کو اپنی صداقت کا یقین تو بے شک ہوتا مگر دوسرے کی بھی سچائی کا احساس ضرور اس کے عزم اور جذبے میں دراڑیں ڈال دیتا۔ فریقِ مخالف کی بات کو کلیتاً اور صریحاً رد کرنے کے لیے جو لاعلمی اور جہالت درکار ہے وہ نہ ہو تو انسان ایسا ہی بے بس اور لاچار ہو جاتا ہے۔ اپنی نظر میں بھی اور دوسروں کی نظر میں بھی!
صوفیا اور سریت پسند علما کا معاملہ بھی شاید یہی رہا ہے۔ رموزِ کائنات کی فہم ایک حد سے بڑھ جانے کے بعد انسان پر غالباً ایک ایسا وقت آتا ہے جب اس کا نطق اس کا ساتھ دینے سے انکاری ہو جاتا ہے:
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
میں سلوک کا طالبِ علم نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید یہی مقام منزلِ حیرت ہوتا ہو گا۔ تحیر ایک ایسی جذباتی کیفیت کا نام ہی تو ہے جو کسی ایسے انکشاف کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جو انسان کی عقل کو عاجز کر دے۔ اور انکشاف علم میں اچانک اور معنیٰ خیز اضافے کے سوا کچھ اور نہیں۔ رومیؒ کی محولہ بالا حکایت بھی ایسا ہی کچھ کہتی ہے۔ اگر انسان کو خدا کا حقیقی عرفان کسی قدر نصیب ہو جائے تو وہ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں اتنا بے باک اور نڈر ہرگز نہیں ہو سکتا جتنا مجھ جیسا کوئی جاہل ہوتا ہے۔ یہی کیفیت آگے چل کر وہ بے زبانی پیدا کرتی ہے جس میں عارف کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہے، کس سے کہے اور کیسے کہے؟
مائے نی میں کنوں آکھاں
علم کی زیادتی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ قوتِ عمل سے محروم کر دیتی ہے۔ صوفیا ہوں یا فلاسفہ، کسی شے کے متعدد پہلوؤں اور ان کے مضمرات سے واقف ہونے کی وجہ سے کسی ایک پہلو یا تناظر کو کھلی ترجیح نہیں دے سکتے۔ جبکہ کاروبارِ حیات کی بنیادی شرط یہی ہے کہ آپ کی ترجیحات متعین ہوں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کو کیا کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے۔ اور یہ بھی کہ کیا نہیں کرنا اور کیوں نہیں۔ مگر یہ سادہ سا فیصلہ علم والوں پر بے علموں کے تصور سے بھی زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ اور بدقسمتی سے یہی گومگو دنیا کے معاملات میں ان بیچاروں کی ناکامی کی ضامن ہے۔

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں