لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں

اُردُو نِگار
لوگ کہتے ہیں مجھے کام کی عادت ہی نہیں
میں سمجھتا ہوں مجھے عشق سے فرصت ہی نہیں

دل ہو اور دل میں محبت ہو تو کیا ہی کہنے
یہ وہ نعمت ہے کہ اس سے بڑی نعمت ہی نہیں

دو جہانوں میں مرے واسطے تو کافی ہے
اور خواہش ہی نہیں، اور ضرورت ہی نہیں

مت مجھے سادہ سمجھنے کا تکلف کیجے
صاف کہیے مری باتوں میں صداقت ہی نہیں

دل تو کہتا ہے وہ باتیں کہ نہ پوچھو راحیلؔ
لیکن ان باتوں کی دنیا میں حقیقت ہی نہیں​

راحیلؔ فاروق​

جنوری ۲۰۱۶ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں