بلا مشورہ

اُردُو نِگار
غالبؔ غالباً کسی بن بلائے مہمان کے ساتھ رات کے وقت گھر کے صحن میں کھلے آسمان تلے دراز تھے۔ (ام الشعراء نے نگوڑ ماروں سے تعلق کی سزا کے طور پر دیوان خانے سے نکال باہر کیا تھا۔ روایت از میری بیگم)۔ مہمان نے غالبؔ سے اکتسابِ فیض کے لیے، بوریت مٹانے کے لیے یا پھر شاید نکال باہر کیے جانے کا غم بھلانے کے لیے ایک ویسا ہی احمقانہ سوال پوچھا جیسے ممتاز مفتی مرحوم قدرت اللہ شہابؔ علیہ الرحمۃ سے پوچھا کرتے تھے۔ (شاید مہمان کو بھی یہی امید ہو کہ غالبؔ نامی اس مقدس پتھر پہ کنکر مارنے سے جو چھینٹے اڑیں گے ان سے بپتسمہ لے کر وہ علم و حکمت کے مقامِ محمود پر فائز ہو جائیں گے۔ سیفؔ، دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں!)
خیر، مہمان نے بابل کے قدیم ہئیت دانوں کی طرح نہایت فکر انگیز انداز میں آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے مرزا نوشہ کو مخاطب کیا:
"مرزا! آسمان پر اس طرف تاروں کا جھرمٹ لگا ہے۔ ادھر معدودے چند ہیں۔ ادھر پھر جمگھٹا ہے۔ اس طرف ایک بھی تارا نہیں۔ یہ کیا بے ترتیبی ہے؟ کیا اس میں کوئی ارفع تر نظم کارفرما ہے؟ کیا اس کے پیچھے کوئی حکمت ہے؟ کیا اس کے آگے کوئی حکمت ہے؟ کیا۔۔۔" وغیرہ وغیرہ۔
غالبؔ نے جل کر جواب دیا:
"اجی سو جائیے، حضرت۔ جو کام بغیر مشورے کے ہوتا ہے، اسی طرح ہوتا ہے!"
---
صاحبو!
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے۔۔۔
کہ میں بھی بلا مشورہ ہی پیدا ہو گیا!
اللہ میاں نے نہ پوچھا، نہ بتایا کہ میاں، ہم تمھیں دنیائے دوں کی تعمیر یا تخریب کے لیے بھیج رہے ہیں۔ جا کر ٹھیک ٹھیک کام کرنا۔ شکایت نہ آئے۔ دنیا میں آنے کے بھی کافی عرصہ بعد جب زندگی میں کچھ کرنے کا مزا آنے لگا (وہ دور مراد ہے جسے انگریزی میں ٹین ایج کہا جاتا ہے یعنی ٹین کی طرح کھڑکتی، کھنکتی اور ثقلِ سماعت کا شکار بزرگوں کو کھٹکتی عمر) تو مولویوں کا ماتھا ٹھنکا۔ انھوں نے فوراً حلق کے بل پکار کے اطلاع دی کہ میاں، باوثوق ذرائع کے مطابق تمھیں اللہ میاں نے بھیجا ہے اور فلاں فلاں کام نہ کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ کیے تو لترو لتری ہو گی۔
ہم حیران ہوئے کہ جب سے پیدا ہوئے ہیں، ہر جگہ ذمہ داری یہ دیکھی کہ فلاں کام کرو۔ احتیاط سے کرو۔ توجہ سے کرو۔ اللہ میاں نے کمال کیا۔ بھیج دیا اور کہا کہ یہ نہ کرو۔ وہ بھی نہ کرو۔ اور وہ تو بالکل بھی نہ کرنا۔ تو پھر کریں کیا؟
اللہ جی! یہ شکوہ تو رہے گا۔ ایک تو "اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے" والا۔ دوسرا یہ کہ بھیجنے سے متعلق معلومات دینے کے لیے (زبردستی) مولویوں کو متعین کر دیا۔ توبہ!
ہم سے پوچھا ہوتا تو آپ کی قسم بہت اچھا مشورہ دیتے!

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. بھئی سارتر نے جو آزادی کو نوع انسان پر مسلط کردہ سزا کہا ہے تو اس کا ایک پہلو یہ بھی تو ہے کہ آزادی دینے سے پہلے پوچھا نہیں جاتا۔ اور ستاروں کی اس بظاہر غیر منظم ترتیب کی وجہ روشنی کی محدود رفتار یا بگ بینگ وغیرہ ہیں غالبا۔
    فانٹ اچھا ہے اس بلاگ کا۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. میٹرک کے امتحان کے لیے ایک دوست نے تصویر کھنچوائی۔ باقی دوستوں نے اپنی تصویروں سے موازنے، معائنے اور تجزیے کے بعد حکم لگایا کہ جرسی کی تصویر اچھی آئی ہے۔
      فانٹ کی تعریف کا شکریہ! :)

      حذف کریں