طرحی غزل: یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟

اُردُو نِگار
نہ گدا آستاں سے اٹھتا ہے​
نہ ستم نیم جاں سے اٹھتا ہے​

نالہ اٹھتا ہے، اٹھ نہیں سکتا​
جب دلِ ناتواں سے اٹھتا ہے​

ہے قفس مدفنِ ہزار الم​
کب یہ بوجھ آشیاں سے اٹھتا ہے​

​کارواں دل کا اور ہے ظالم​
یہ غبار آسماں سے اٹھتا ہے​

ہو چکا راکھ دل تو مدت سے​
’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے‘​

آخرِ کار اٹھ گیا راحیلؔ۔۔۔​
غیر کب درمیاں سے اٹھتا ہے؟​

راحیلؔ فاروق

12 جنوری، 2012ء
(اردو محفل کے ایک آن لائن طرحی مشاعرے کے لیے کہی گئی)

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں