غزل - اے یادِ رفتگاں، مجھے جینے کا چھوڑیو

اُردُو نِگار
اے یادِ رفتگاں مجھے جینے کا چھوڑیو
جو زخم کھائے ہیں، انھیں سینے کا چھوڑیو

اپنی گلی میں دے کے ٹھکانا فقیر کو
مکے کا چھوڑیو، نہ مدینے کا چھوڑیو

ساقی پلائیو تو نہ آنکھیں ملائیو
مجھ کو بچائیو، مجھے پینے کا چھوڑیو

گر روئیو تو مجھ سے لپٹ کر نہ روئیو
دریا میں ڈالیو تو سفینے کا چھوڑیو

میری سزا میں کیجیو ملا سے مشورہ
مے اک طرف، لہو بھی نہ پینے کا چھوڑیو

راحیلؔ دل بھی چھوڑ گیا اب تو اے خدا
اس حال میں نہ ہاتھ کمینے کا چھوڑیو

راحیلؔ فاروق

16 جنوری 2014ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :