غزل - ہونے والی ہے بزمِ نو آغاز

اُردُو نِگار
ہونے والی ہے بزمِ نو آغاز
بج اٹھے ہیں سبھی سنے ہوئے ساز

عشق اکیسویں صدی میں ہے
وہی راہیں، وہی نشیب و فراز

اس نے پھر سنگِ آستاں بدلا
ہم نے رکھ دی وہی جبینِ نیاز

دور تھا ہر کسی سے ہر کوئی
دی کسی نے قریب سے آواز

بندہ پرور کو یہ نہ تھا معلوم
بندے مانگیں گے بندگی کا جواز

عشق کرتے ہیں لوگ بھی راحیلؔ
ہم روایت شکن، روایت ساز !

راحیلؔ فاروق

1 فروری 2011ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

1 تبصرہ :