غزل - یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں

اُردُو نِگار
یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں
مجھے دل بھی تو کم عزیز نہیں

ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹ جائیں پاؤں
منزلوں سے قدم عزیز نہیں

آپ اپنا بچاؤ کر لیجے
دل کو دل کا بھرم عزیز نہیں

مرگِ الفت کا خوف ہے ورنہ
جاں، خدا کی قسم! عزیز نہیں

حسن والوں کا پاس ہے راحیلؔ
ورنہ ہم کو ستم عزیز نہیں

راحیلؔ فاروق

29 اگست 2013

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

1 تبصرہ :