اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا

اُردُو نِگار
اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا
پر چھیڑ دیں تو تم سے سنا ہی نہ جائے گا

اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا

دنیا کے سب دکھوں میں اکیلے ہی جی گئے
جیسے ہمارے بعد جیا ہی نہ جائے گا

تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا

راحیلؔ ہم تو یوں بھی نمازی نہیں رہے
کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا !

راحیلؔ فاروق

۱۲ مئی ۲۰۱۱ء​

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں