عشق کا حصہ ہیں کھلی آیات

اُردُو نِگار
عشق کا حصہ ہیں کھلی آیات
وسوسوں تک ہیں عقل کی برکات

بھولتا جا رہا ہوں خود کو میں
کر رہا ہوں تلافئِ ما فات

سوچتے سوچتے خیال آیا
آپ تک سوچ کی کہاں اوقات

ہیں تمھارے فراق کے تحفے
عشق پر ہیں جنون کے اثرات

روز بنتی ہے کائنات نئی
روز اترتی ہیں نت نئی آیات

مسکرا کر شعور والوں پر
دل نے کر دی بڑے پتے کی بات

گئے کس بارگاہ میں راحیلؔ
تم نے خود کو بھی کر دیا خیرات​

راحیلؔ فاروق

یکم مارچ ۲۰۱۱ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں