غمِ دوراں سے دور بیٹھا ہوں

اُردُو نِگار
غمِ  دوراں  سے  دور  بیٹھا  ہوں
تیرے  غم  کے حضور بیٹھا  ہوں

ابھی محفل پہ اپنے بھید نہ کھول
ابھی  میں  بے  شعور بیٹھا  ہوں

میں نے مانگی نہیں نظر کی بھیک
اس  گلی  میں  ضرور  بیٹھا  ہوں


پھر  ہیں  بینائیوں  کو  وہم  بہت
پھر   سرِ  کوہِ   طور  بیٹھا   ہوں

مجھے  کوئی  مرض  نہیں  راحیلؔ
آرزوؤں  سے  چور  بیٹھا   ہوں

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

2 تبصرے :

  1. سبحان اللہ سبحان اللہ
    دل جھوم جھوم اٹھا، کیا غزل کہی ہے بھائی جان!

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. شکریہ، مزمل بھائی۔
      اللہ بہت خوش رکھے۔ :)

      حذف کریں