یہ بات بات پہ بندوق تاننے والے

اُردُو نِگار
یہ بات بات پہ بندوق تاننے والے
نبیؐ کو جانتے بھی ہیں یہ ماننے والے؟

تمھارے شہر میں کیوں خوش لباس ہو گئے لوگ؟
نظر سے گر گئے کیا خاک چھاننے والے؟

سمندروں کو پلٹ کر نہ دیکھتے، اے کاش
ہم ایک بوند سے دامن کو ساننے والے

زہے نصیب! کہ ہوں آپ سے ملاقاتیں
پھر آ گئے ہیں نہ آنے کی ٹھاننے والے

خدا سے کیا جہلا کو ہے واسطہ راحیلؔ
اسے تو مانتے بھی ہیں تو جاننے والے!​


راحیلؔ فاروق
۲۰۰۷ء

راحیلؔ فاروق

اُردُو نِگار

ہیچ نہ معلوم شد آہ کہ من کیستم... میرے بارے میں مزید جاننے کے لیے استخارہ فرمائیں۔ اگر کوئی نئی بات معلوم ہو تو مجھے مطلع کرنے سے قبل اپنے طور پر تصدیق ضرور کر لیں!

0 آراء :

ایک تبصرہ شائع کریں