کمال بھول گیا اور زوال بھول گیا

 کمال بھول گیا اور زوال بھول گیا
کہاں کے ماضی و فردا کہ حال بھول گیا

بساط ایسی کہ گویا ابھی الٹتی ہے
اناڑی ایسے کہ شاطر بھی چال بھول گیا

اسے مکالمہ کہیے جمالِ فطرت سے
جواب ڈھونڈنے نکلا سوال بھول گیا

بڑی ہی یاس کے عالم میں گھر کو نکلا ہے
چمن کے بیچ میں صیاد جال بھول گیا

ہمیں تو عشق میں خود عشق کی خبر نہ رہی
تمھیں بھی خیر سے اپنا جمال بھول گیا

رقیب ہوتے ہیں کیسے ٹکے ٹکے کے لوگ
برا ہو حافظے کا میں مثال بھول گیا

فراق کاٹنے راحیلؔ مجھ سے سیکھے کوئی
شبیہ یاد رکھی ماہ و سال بھول گیا

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے