غزل – یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں

یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں
مجھے دل بھی تو کم عزیز نہیں
ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹ جائیں پاؤں
منزلوں سے قدم عزیز نہیں
آپ اپنا بچاؤ کر لیجے
دل کو دل کا بھرم عزیز نہیں
مرگِ الفت کا خوف ہے ورنہ
جاں، خدا کی قسم! عزیز نہیں
حسن والوں کا پاس ہے راحیلؔ
ورنہ ہم کو ستم عزیز نہیں

راحیلؔ فاروق

29 اگست 2013

ایک تبصرہ: “غزل – یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں”

تبصرہ کیجیے