الفت کے گنہگار تجھے یاد کریں ہیں – مرثیہ عمران شاہدؔ

Elegy for Imran Shahid the poet

متن:

الفت کے گنہگار تجھے یاد کریں ہیں
فرقت کے سزاوار تجھے یاد کریں ہیں
ٹیکیں ہیں تری قبر پہ جب چاند سا ماتھا
یارانِ طرحدار تجھے یاد کریں ہیں
عرشوں سے پکاریں ہیں زمینوں سے صدائیں
کیا کیا ترے بیمار تجھے یاد کریں ہیں
جا، چھوڑ کے ہم درد کے ماروں کو چلا جا
افلاک کے اس پار تجھے یاد کریں ہیں
روئیں ہیں مساجد میں تجھے سجدہ گزاراں
میخانوں میں میخوار تجھے یاد کریں ہیں
قاتل سے کہو کوئی کہ غفلت کی بھی حد ہے
بیٹھے ہیں سرِ دار، تجھے یاد کریں ہیں
اے تو کہ ترے نام پہ بکتا تھا غمِ دل
غزلوں کے خریدار تجھے یاد کریں ہیں
تو بھی تو یونہی ہم سے عبث روٹھ گیا ہے
ہم بھی یونہی بیکار تجھے یاد کریں ہیں
قاصد تجھے پہنچائیں گے احوال کہاں تک
دل والے بہت بار تجھے یاد کریں ہیں
اے شاہدِؔ دل دار، اکیلا نہیں راحیلؔ
روئیں ہیں سبھی یار، تجھے یاد کریں ہیں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے