اٹھ چلے ہاتھ لگاتے ہوئے سب کانوں کو

اٹھ چلے ہاتھ لگاتے ہوئے سب کانوں کو
بولنے ہی نہ دیا تم نے تو دیوانوں کو

گرچہ مشہور ہیں یوں بھی مری دیوانگیاں
آپ کے نام سے پر لگتے ہیں افسانوں کو

کون دے مجھ کو دعا، میری دوا کون کرے
عشق کا درد نہ اپنوں کو نہ بیگانوں کو

تیری دنیا میں محبت کی کمی ہے ورنہ
کسی جنت کی ضرورت نہ تھی انسانوں کو

اب جو ساقی سے بگاڑی ہے تو راحیلؔ میاں
آپ بھرتے ہوئے دیکھا کریں پیمانوں کو

راحیلؔ فاروق

2 آرا و خیالات “اٹھ چلے ہاتھ لگاتے ہوئے سب کانوں کو”

تبصرہ کیجیے