بڑ تو ہانکیں گے دیوانے ایسا کرتے! ویسا کرتے

بڑ تو ہانکیں گے دیوانے ایسا کرتے ویسا کرتے!
حسن کی بھیک پہ پلنے والے عشق نہ کرتے تو کیا کرتے

میرا زور بھی میرے رب پر تیرا زور بھی میرے رب پر
میری مسجد ڈھانے والے اپنا قبلہ سیدھا کرتے

ہم نے آپ کو کب روکا تھا آپ نے روکا ظلم کمایا
آپ بھی اللہ اللہ کرتے ہم بھی لیلیٰ لیلیٰ کرتے

ایک نظر کی مار تھے واعظ زاہد عابد قاضی مفتی
تیرے حسن کا دم بھرتے سب تیرے عشق کا دعویٰ کرتے

غم میں ماتم ہوتا ہی ہے تم کو کیا شے مانع آئی
اللہ ہاتھ سلامت رکھے دل کا بوجھ تو ہلکا کرتے

ایک کا سینہ چاک پڑا ہے ایک کو نغمے سوجھ رہے ہیں
گل اور بلبل لڑ نہیں سکتے ورنہ باغ کو آدھا کرتے

ٹوپی ڈاڑھی سجدہ روزہ یہ سب کیا ہے اے مولانا
اتنا سہل اگر ہوتا تو ہم بھی خدا سے دھوکا کرتے

شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو یہ راحیلؔ میاں دستک تھی
سننے والوں نے سن بھی لی تم رہے آہا آہا کرتے

راحیلؔ فاروق

ایک رائے “بڑ تو ہانکیں گے دیوانے ایسا کرتے! ویسا کرتے”

تبصرہ کیجیے