مداری

دیکھیں تو بھلا سوچ کہاں تک ہے تمھاری
ہے سوچ تمھاری جو نکالے گی پٹاری

لوگوں کو دکھاتا ہے پٹاری کا تماشا
لوگوں کے تماشے کا تماشائی مداری !

راحیلؔ فاروق
(جنوری 2013ء)

تبصرہ کیجیے