تسنن، تقدس اور تصنع

تسنن کے لغوی معانی کسی راہ پر باقاعدہ چلنے کے ہیں اور اصطلاحی سنتِ نبویﷺ کی پیروی کرنے کے۔ دورانِ فلک کے طفیل یہ لفظ تشیع کے مقابل آ گیا ہے اور ہمارے سنی بھائی اس پر اپنا حقِ ملکیت خیال کرنے لگے ہیں۔ بہرحال، ہم اس لفظ کو اس مضمون میں ہر قسم کے فرقہ وارانہ مضمرات سے ہٹ کر محض اتباعِ سنتِ رسولﷺ کے مفہوم میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ قوموں کے زوال کا دور تقدس سے عبارت ہوتا ہے اور عروج کا بےباکی سے۔ممکن ہے عامۃ المسلمین کو یہ بات نہایت تعجب خیز لگے مگر ہمارے خیال میں حدیثِ قرطاس ان کی اس خوش گمانی کا کافی حد تک ازالہ کر سکتی ہے۔ اس مشہور روایت کے مطابق نبیِ اکرمﷺ کے وصال کے وقت صحابہ میں اس امر میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا کہ رسالت مآب کا حکم مانا جائے یا نہیں۔ بعض کا خیال تھا کہ کہ امتثالِ امر ضروری ہے جبکہ بعض، جن میں حضرت عمرؓ فاروق سرِ فہرست تھے، سمجھتے تھے کہ شدتِ مرض کے سبب حضورﷺ کا حکم لائقِِ اعتنا نہیں۔

بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہی عمرؓ فاروق اپنی خلافت کے دور میں منبر پر کھڑے ہوئے تو ایک شخص نے ان کے کپڑوں پر سوال کیا اور ایسی جرات سے کیا کہ جب تک جواب نہ ملتا اگلی بات سننے پر راضی نہ ہوتا تھا۔ پیر کے قدموں میں سر ٹیک دینے والی اور حکمران کے سامنے گنگ ہو جانے والی قوم کے لیے عملی طور پر اس جرات سے زیادہ ناقابلِ تصور شے کوئی اور نہیں۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے تو جو اقدامات اسلام نے کیے تھے ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ باقی حوالے تو شاید بہت ہی زیادہ گراں گزریں مگر ثابت بن قیسؓ کی بیگم کی طلاق آنکھیں کھول دینے کو کافی ہو سکتی ہے۔ موصوفہ نے آں حضرتﷺ کے حضور صاف کہہ دیا تھا کہ ان کے شوہر میں کوئی عیب نہیں مگر وہ انھیں پسند نہیں کرتیں اور آپﷺ نے طلاق کا حکم دے دیا تھا۔ یہ معاشرہ تھا عرب کا جس میں بیٹیاں پیدا ہوتے ہی مار ڈالی جاتی تھیں۔ یہ اعتراض کرنے والی ایک عورت تھی جسے بھیڑ بکری سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوا کرتی تھی۔ اور یہ جرات دکھائی گئی تھی اس شخص کے سامنے جس سے زیادہ واجب الاحترام نہ کوئی ہوا ہے اور نہ ہو گا۔

صحت مند تمدن کا ایک لازمہ زبان و بیان کو غیرضروری تقدیس سے پاک کرنا بھی ہے۔ اسلام نے اس سلسلے میں جو اعتدال روا رکھا تھا اور کلام میں جس بےساختگی، جرات اور سادگی کو رواج دیا تھا وہ مترجمین اور مفسرین کی عنایت سے اب چشمِ تصور سے بھی اوجھل ہو گیا ہے۔ ہمارے وہ فضلا جو اردو کے محاوروں کو اسلامیانے پر تلے ہوئے ہیں شاید اس بےلاگ طرزِ گفتگو سے واقف ہی نہیں رہے جو قرآن اور اہلِ قرآن نے اپنا رکھا تھا۔ ملاحظہ ہو سورۂِ آلِ عمران کی ۵۴ ویں آیت:

وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

اور اس کے بعد "مکر” کے معانی کسی بھی مستند عربی لغت میں دیکھ لیجیے۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارا آج کا "مودب” اسلام اپنی اصل سے کس قدر دور جا پڑا ہے۔ مثالیں تو بےشمار ہیں مگر اور دوں گا تو شاید مجھے بھائیوں کی جانب سے فاتحہ بھی نصیب نہ ہو!

میں سمجھتا ہوں کہ گو میں نے خوفِ فسادِ خلق سے حوالے دینے میں انتہائی احتیاط سے کام لیا ہے مگر پھر بھی انصاف کی نظر رکھنے والے احباب کے لیے آزادی اور بےباکی کی اس روح تک پہنچنا دشوار نہیں ہو گا جو اسلام نے مصنوعی آداب معاشرت کے گلتے ہوئے بدن میں پھونک دی تھی۔ اسلام کا دینِ فطرت ہونا دراصل اسی نکتے میں پوشیدہ ہے کہ اس نے انسان کو انسان ہونے کی ترغیب دی، فرشتہ ہونے کی نہیں۔

میرا خیال ہے کہ یہ فرشتگی اور انسانیت کے درمیان فرق بھی ایک موٹی سی مثال سے واضح کر ہی دوں۔ اپنی فلسفہ زدگی کے دور میں بڑے تدبر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ فطرت انسان کا محاکمہ اس کی خامیوں نہیں بلکہ خوبیوں کی بنا پر کرتی ہے۔ روایاتِ اسلام سے بعد میں میرے اس خیال کی تائید بھی ہو گئی۔ ابو محجنؓ ثقفی ایک مشہور شاعر اور بہادر تھے۔ موصوف امتناعِ شراب کے حکم کے بعد بھی شراب نوشی سے مجتنب نہ ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرتِ عمرؓ نے ان پر سات یا آٹھ مرتبہ حد جاری کی مگر سزا بھگت لیتے تھے، باز نہ آتے تھے۔ ان کے اشعار مشہور ہیں جن میں انھوں نے اپنے بیٹے کو اپنی لاش انگور کی بیلوں کے پاس دفنانے کی وصیت کی ہے۔

جنگِ قادسیہ کے موقع پر سعد بن ابی وقاصؓ کی کمان میں جو لشکر نکلا تھا اس میں شامل تھے۔ وہاں بھی پیا کیے اور ماخوذ ہو گئے۔ سپہ سالار نے زنجیروں میں جکڑوا دیا۔ اب زندان خانے سے بیٹھے لڑائی دیکھ رہے تھے کہ جوش آیا۔ سپہ سالار کی بیگم سے التجا کی کہ مجھے چپکے سے آزاد کر دو۔ اگر شہید نہ ہوا تو واپس آ کر خود بیڑیاں پہن لوں گا۔ انھیں ان کی بےقراری دیکھ کر رحم آ گیا۔ انھوں نے زنجیریں توڑ ڈالیں اور ابو محجنؓ نے میدان میں پہنچ کر وہ جوہر دکھائے کہ سعد بن ابی وقاصؓ ششدر رہ گئے۔ انھیں شبہ پڑتا تھا کہ یہ ابو محجنؓ ہی کے رنگ ڈھنگ ہیں پر یہ سوچ کر رہ جاتے تھے کہ وہ تو قید ہیں۔ بعد کو معاملے کی خبر ہوئی تو فوراً یہ کہتے ہوئے آزاد کر دیا کہ مسلمانوں کے ایسے جاں نثار پر میں حد جاری نہیں کروں گا۔ ابومحجنؓ بھی غیرت مند تھے۔ انھوں نے بھی تب قسم کھائی کہ آج کے بعد شراب نہ پیوں گا۔

دو باتیں اس قصے میں ایسی ہیں جو غور کیا جائے تو انتہائی چونکا دینے والی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جناب ابو محجنؓ جیسے لوگ قرونِ اولیٰ کے اسلامی معاشرے کا نمایاں حصہ تھے۔ اور دوسری یہ کہ حضرت سعدؓ جیسے جلیل القدر صحابی نے انھیں ایک ایسی رعایت دے دی تھی جو شریعت کے خلاف تھی۔ امید ہے میں یہ واضح کر سکا ہوں گا کہ ٹھیٹھ اسلام انسان سے فرشتہ ہو جانے کا تقاضا نہیں کرتا۔

فی زمانہ معاملہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام اور بالخصوص مسلمانانِ پاک و ہند تمدنی تصنع کی کم و بیش اسی منزل پر پہنچ گئے ہیں جس پر ظہورِ اسلام سے قبل عرب کا معاشرہ موجود تھا۔ تمدنی تصنع سے میری مراد وہ تمام تر غیرفطری سماجی رویے اور معمولات ہیں جن کا شریعت یا فطرتِ انسانی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ اس میں تقدس اس سطح تک پہنچ جاتا ہے کہ شریعت پوجا پاٹھ اور حقیقت دیومالا معلوم ہونے لگتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اسلام میں اس تصنع کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب یہ جزیرۃ العرب سے نکل کر عجم پر غالب آیا تھا۔ مفتوحین پر اسلام کی ایسی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ وہ ریاستی سے زیادہ نفسیاتی غلامی کا شکار ہو گئے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج ہم ذہنی طور پر مغرب کے سحر میں جکڑے جا چکے ہیں۔ ایسی صورت میں مفتوح خود کو فاتح سے بھی زیادہ فاتح کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنے لگتا ہے جس سے تصنع کی بنا پڑتی ہے۔ آپ کو اپنے اردگرد بہت سے ایسے نوجوان مل جائیں گے جن کی مثلاً مغربی موسیقی پر نظر ایک عام مغربی شخص سے کہیں زیادہ گہری ہو گی۔ خود مجھے یاد ہے کہ بیس اکیس برس کی عمر میں میری ملاقات ایک جرمن شخص سے ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا تھا، "تو تم نطشے کے ملک سے ہو؟” اور پھر نطشے کی وہ مدح سرائیاں شروع کی تھیں کہ وہ شخص حیران رہ گیا۔ بالآخر اس نے کہا، "میں نطشے کو زیادہ نہیں جانتا۔” اور مجھے یقین نہیں آیا۔ آتا بھی کیسے؟ میں تو اپنے اس علم کے زور پر بات کر رہا تھا جس کے مطابق ہٹلر کی قوم پرستی کے پیچھے نطشے کی انانیت کا ہاتھ تھا اور جو بتاتا تھا کہ جرمن ہٹلر کے فسوں سے ابھی تک نہیں نکلے۔

اسلام بھی جب اپنے مرکز سے نکل کر ادھر ادھر پھیلنا شروع ہوا تو مغلوب اقوام اسی مرعوبیت کا شکار ہو گئیں۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی انتہا پسندی اور ظاہر پرستی کی صورت میں نکلا جس کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ مثلاً زہد و ورع کو اس کمال پر پہنچا دیا گیا کہ شہر میں بکری چوری ہو جائے تو حرام کے خدشے سے بکری کا گوشت کھانا ہی ترک کر دیا جائے۔ ان بزرگوں کے خلوص میں کلام نہیں مگر سوال یہ ہے کہ آں حضرتﷺ کے دور میں تو اردگرد سودخوار یہودی بھی بستے تھے اور چیرہ دست کفار بھی۔ آپ نے تو کبھی ایسے کسی گمان پر کوئی شے کھانی ترک نہ فرمائی تھی۔ میں نے خود اپنے والد کو دیکھا کہ وضو کے بعد پانی کے چھینٹوں کے بارے میں بھی غیرمعمولی احتیاط سے کام لیتے تھے۔ اور میں حیران ہو کر سوچتا تھا کہ کیا حضرت محمدﷺ بھی نماز کو جاتے ہوئے یونہی قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوں گے۔ میرے والد کے ہاں تو خیر اس قسم کے سوالات کی اجازت تھی مگر اس تقدس کا کیا کیجیے جو اب تصنع کا نگران بن کر بیٹھ گیا ہے اور کسی بےجا روایت پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا۔

اب اسلام کا یہ مصنوعی تاثر اس حد تک جم گیا ہے کہ ارضی حقائق تو ایک طرف رہے، خود اصل اسلام بھی سامنے لایا جائے تو یار لوگوں کو غیرت آ جائے گی۔ مجھے پچھلے کچھ عرصے میں کچھ ایسے تجربات ہوئے ہیں جن سے مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اہلِ اسلام کے سوادِ اعظم کی حیا اور تہذیب اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ اب شاید ان کے لیے گھروں میں قرآن پڑھنا بھی شاید ممکن نہ رہا ہو۔ احادیث کے مجموعے تو خیر ایسے لاتعداد حقائق کے بیان پر مبنی ہیں جن سے ایک سلیم الفطرت شخص کو تو باک نہیں مگر ہمارے تہذیب یافتہ احباب کو اس سے دل کا دورہ پڑنا عین قرینِ قیاس ہے۔

جوشؔ ملیح آبادی نے یادوں کی برات میں بہت سے ایسے معاملات کے بارے میں یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ میری شرمیلی قوم اس کی تاب نہیں لا سکتی۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ جوشؔ کے وقت تک حالات پھر بھی بہت سازگار تھے۔ یہ شرمیلی قوم اب چھوئی موئی بن چکی ہے جس سے آگے صرف "موئی” ہی کا مقامِ محمود رہ گیا ہے۔ جوش نے تو بڑی سہولت سے بہت سے ایسے معاملات نقل کیے ہیں جو اس وقت تک قابلِ مواخذہ نہ سمجھے جاتے تھے۔ شراب نوشی اس کی بین مثال ہے۔

پرانا عہد اور بھی زیادہ آزاد معلوم ہوتا ہے۔ اساتذہ کے دواوین میں ایسے اشعار عموماً مل جاتے ہیں جو آج پڑھنے بھی یقیناً معیوب خیال کیے جائیں گے۔ نثر کا معاملہ تو پھر الگ ہی ہے۔ محمد علی صاحب رودولوی کا ہما خانم کے نام وہ خط اٹھا کر دیکھ لیجیے جس میں انھوں نے خدا سے اپنے تعلق کا ذکر کیا ہے۔ اگر کوئی آج ایسی جرات کرے تو علما کے فتویٰ سے پہلے ہی، جو بہرحال اپنی جگہ یقینی ہے، عوام کا انگوٹھا اس کے نرخرے پر ہو گا۔ حد یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے اقبال کا مصرع "مشکلیں امتِ مرحوم کی آساں کر دے” نقل کرنے پر ایک صاحب میری جان کے لاگو ہو گئے تھے کہ امت کو مرحوم کہنا توہین کے زمرے میں آتا ہے۔

مجھے کہنے دیجیے کہ اسلام کے اصل اخلاق اپنے جوہر میں کم و بیش وہی تھے جو آج مغرب کے ہیں۔ اپنی فطرتیت، سادگی اور برجستگی کے لحاظ سے ہمارے اسلاف کی معاشرت اور آداب ہرگز ہرگز وہ نہ تھے جیسے فی زمانہ ہم نے گھڑ رکھے ہیں۔ مغرب میں عریانیت اور فحاشی کا ڈھنڈورا ہمارے ہاں بہت پیٹا جاتا ہے مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ مغرب کے اخلاقی نظام کا اساسی حصہ نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف اچھا خاصا ردِ عمل خود وہیں سے اٹھا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آزادئِ فکر و عمل کو غیرضروری طور پر یقینی بنانے کے خبط نے اس ردِ عمل کو بارآور نہیں ہونے دیا۔ لیکن اس معاملے سے قطعِ نظر کر کے دیکھا جائے تو اپنی طرزِ معاشرت میں جو اصلیت اور جرات اہلِ مغرب نے اپنائی ہے وہ درحقیقت عیناً وہی ہے جس کی اسلام نے نہ صرف حمایت کی تھی بلکہ اسے لازم قرار دیا تھا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تسنن فی الحقیقت اس تقدس اور تصنع سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا جسے ہم نے بحیثیت مسلمانوں کے خود پر لازم کر رکھا ہے۔ ہمارے اس بناوٹی اور غیرفطرتی سماج میں بول چال سے لے کر مرد و زن کے تعلقات تک اکثر معاملات ایسے ہیں جن میں عجمی اور بالخصوص ہندی روایات کا دخل ہے۔ جس قسم کی رسوم کا قلع قمع رسول اللہ ﷺ نے عرب میں فرمانا چاہا تھا، ویسی ہی ہم نے ان کے نام پر جاری کر دی ہیں اور لطیفہ یہ ہے کہ اسے عین سعادت مندی خیال کرتے ہیں۔ ایک شعر یاد آ رہا ہے۔ معلوم نہیں کس کا ہے مگر اس گفتگو کے اختتام پر شاید مناسب رہے گا۔

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغِ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بو لہبی​

ایک رائے “تسنن، تقدس اور تصنع”

تبصرہ کیجیے